چیئرمین جیئند بلوچ کی مسلسل تیسری جبری گمشدگی بلوچستان میں پرامن جمہوری سیاست کو طاقت سے کچلنے کا تسلسل ہے ۔ بی،ایس،او

‎‎‎ترجمان بی ایس او نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ شب سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں بی ایس او کے مرکزی چیئرمین جیئند بلوچ کی ہدہ کوئٹہ سے جبری گمشدگی محض ایک فرد کی گرفتاری نہیں، بلکہ یہ سیاسی عمل کو طاقت کے زور پر کچلنے کی ریاستی پالیسی کا تسلسل ہے۔ اس سے قبل جیئند بلوچ کو 2018، 2024 اور اب 2026 میں جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ہے، اور ہر بار انہیں قانون و آئین سے بالا تر ہو کر قید رکھا گیا۔ 2018 میں ان کے ساتھ ان کے والد اور چھوٹے بھائی کو بھی لاپتہ کیا گیا تھا۔ ایک طالب علم رہنما کو بار بار جبری گمشدگی کا شکار بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکمران طبقے کے پاس سیاسی و فکری اختلاف کا سامنا کرنے کی سکت نہیں ہے، اور وہ محض جبر کے بل بوتے پر اپنے فیصلے مسلط کرنا چاہتی ہے۔

‎‎ترجمان نے کہا کہ جیئند بلوچ کی بار بار گمشدگی ان عوام دشمن پالیسیوں کا حصہ ہے جنہوں نے بلوچستان کو سیاسی طور پر غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ آج بلوچستان میں انسدادِ بغاوت کے نام پر ہر قسم کی جمہوری اور پرامن سیاسی سرگرمی کو جرم قرار دے دیا گیا ہے۔ ریاست نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جہاں سیاسی کارکنوں کو آئینی دائرے سے باہر کر کے لاپتہ افراد کے زمرے میں دھکیلا جا رہا ہے، جو کہ کسی بھی مہذب معاشرے کے دعووں کی نفی کرتا ہے۔

‎‎بیان میں واضح کیا گیا کہ آج پوری دنیا اور خطے کے اندر شدید سیاسی و معاشی بحران موجود ہیں۔ جو ریاستیں بدلتے ہوئے حالات میں اجتماعی حقوق اور سیاسی مسائل کے حل سے گریزاں رہتی ہیں، وہ ناگزیر طور پر جبر اور طاقت کا سہارا لیتی ہیں۔ ایک جانب صوبے میں غیراعلانیہ میڈیا سنسرشپ کے ذریعے حقائق کو چھپایا جا رہا ہے، تو دوسری جانب ایک یکطرفہ بیانیہ مسلط کیا جا رہا ہے۔ آج بلوچستان جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کے درمیان کشمکش کا مرکزی نکتہ بن چکا ہے۔ منطقی طور پر، کسی بھی معاشرے میں محکوم قوموں کے حقوق کو سلب کر کے جمہوریت کا پرچار نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک بلوچستان میں جمہوری اور سیاسی آوازوں کو طاقت سے دبایا جاتا رہے گا، خطے کے دیگر حصوں میں جمہوریت کا ہر دعویٰ کھوکھلا رہے گا۔

‎‎ترجمان نے واضح کیا کہ اگر مقتدر قوتین یہ سمجھتی ہے کہ سیاسی کارکنوں کو بار بار قید کر کے ان کے پختہ عزم کو کمزور کیا جا سکتا ہے، تو یہ خام خیالی ہے۔ بی ایس او کے کارکن مشکل ترین حالات میں بھی فکری اور نظریاتی استقامت کے ساتھ جدوجہد جاری رکھنے کا ہنر جانتے ہیں۔ اور ہم ملک بھر کی محکوم قوموں، مظلوم طبقوں اور خاص طور پر نوجوانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس ریاستی جبر کے خلاف متحد ہوں اور اپنے سیاسی و جمہوری حقوق کے لیے صف آرا ہوں۔

‎‎بی ایس او کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ تنظیم بلوچ عوام اور بالخصوص نوجوانوں کے حقوق، نیز اس پورے خطے کے سیاسی مستقبل اور بقاء کے لیے اپنی پرامن اور جمہوری جدوجہد سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گی، بلکہ اس استحصالی اور غیر جمہوری رویے کے خلاف ہماری یہ سیاسی مزاحمت مزید منظم اور توانا ہوگی۔ بی ایس او تمام ترقی پسند سیاسی جماعتوں، انسانی حقوق کے اداروں، طلبہ تنظیموں، وکلاء اور صحافی برادری سے پرزور اپیل کرتی ہے کہ وہ چیئرمین جیئند بلوچ کی باحفاظت اور فوری بازیابی کے لیے آواز اٹھائیں اور اس غیر جمہوری جبر کے خلاف اصولی مؤقف اپنائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *