گورنمنٹ بوائز انٹر کالج وڈھ، جو وڈھ بازار کے قریب واقع ہے، دہائیوں پر محیط ایک وسیع رقبے پر قائم علاقے کے قدیم اور اہم تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ادارہ سینکڑوں طلبہ و طالبات کو اعلیٰ ثانوی تعلیم فراہم کرنے کا واحد بڑا مرکز ہے، جہاں اس وقت تقریباً ڈھائی سو طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ ماضی میں یہاں پری میڈیکل اور پری انجینئرنگ کے شعبے موجود تھے، جبکہ رواں سال کمپیوٹر سائنس (ICS) کے شعبے کا بھی اضافہ کیا گیا، جو بظاہر ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ تاہم صرف نئے شعبوں کا قیام اس وقت تک بے معنی ہے جب تک طلبہ کو معیاری تدریس، بنیادی سہولیات اور باقاعدہ اساتذہ میسر نہ ہوں۔
افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اس اہم ادارے کی صورتحال دن بدن ابتر ہوتی جارہی ہے۔ کالج میں مختلف مضامین کے لیکچررز کی شدید کمی ہے، معیاری لائبریری موجود نہیں، سائنس لیبارٹری ضروری آلات سے محروم ہے، کھیلوں کی سرگرمیاں تقریباً ختم ہوچکی ہیں، جبکہ طلبہ کے لیے سالانہ مطالعاتی دورے اور تعلیمی ٹرپس بھی عرصہ دراز سے بند ہیں۔ اس کے علاوہ طلبہ کے لیے ہاسٹل کی عمارت گزشتہ پانچ برسوں سے زیرِ تعمیر ہے، مگر آج تک مکمل نہیں ہوسکی، جس کی وجہ سے دور دراز علاقوں سے آنے والے طلبہ شدید مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔
سب سے زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ کالج میں تدریسی اور انتظامی نظام تقریباً مفلوج ہوچکا ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ ادارے میں صرف لیب اسسٹنٹ، کلرک اور چوکیدار ہی اپنی ذمہ داریاں باقاعدگی سے انجام دیتے نظر آتے ہیں، جبکہ بیشتر تدریسی عملے کی غیر حاضری معمول بن چکی ہے۔ یہ نہ صرف محکمہ تعلیم کی کارکردگی پر سنگین سوالیہ نشان ہے بلکہ طلبہ کے بنیادی حقِ تعلیم کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔
یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ اتنے بڑے اور اہم تعلیمی ادارے کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے۔ اگر فوری طور پر اساتذہ کی تعیناتی، بنیادی سہولیات کی فراہمی، زیرِ تعمیر ہاسٹل کی تکمیل اور تعلیمی ماحول کی بحالی کے لیے عملی اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے نتائج صرف اس ادارے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے علاقے کے تعلیمی مستقبل کو متاثر کریں گے۔
مزید برآں، کالج میں طلبہ کی آمدورفت کے لیے موجود واحد کالج بس بھی عرصۂ دراز سے ناکارہ پڑی ہے اور عملی طور پر استعمال کے قابل نہیں۔ دور دراز علاقوں سے آنے والے طلبہ روزانہ سفری مشکلات اور اضافی اخراجات برداشت کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ ایک فعال ٹرانسپورٹ سروس نہ ہونے کی وجہ سے ان کی حاضری اور تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہورہی ہیں۔ ایک ایسے ادارے میں، جہاں مختلف علاقوں سے طلبہ تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں، ٹرانسپورٹ کی سہولت کا فعال ہونا نہایت ضروری ہے، مگر بدقسمتی سے انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث یہ بنیادی ضرورت بھی طلبہ کو میسر نہیں۔
بی ایس او وڈھ زون, متعلقہ حکام، محکمہ تعلیم بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ گورنمنٹ بوائز انٹر کالج وڈھ کے مسائل کو ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جائے، اساتذہ کی خالی آسامیوں کو فوری پُر کیا جائے، ہاسٹل کی تعمیر مکمل کی جائے، لائبریری اور لیبارٹری کو فعال بنایا جائے اور طلبہ کو وہ تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں جو ایک معیاری تعلیمی ادارے کا لازمی حصہ ہیں۔ بصورتِ دیگر طلبہ کے جائز حقوق کے لیے ہر آئینی، جمہوری اور پرامن جدوجہد کا حق محفوظ رکھا جاتا ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔



