ترجمان بی ایس او نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ شب سکیورٹی فورسز کا طلبہ رہنما عمار بلوچ کو رات 12:30 کے قریب لاہور سے جبری طور پر اغواء کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کرنا قابلِ مذمت ہے، ان کی باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کرتے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ طلبہ سیاسی رہنماؤں کی اغواء نما گرفتاریاں محض ایک فرد کی گرفتاری نہیں، بلکہ سیاسی عمل کو طاقت کے زور پر کچلنے کی ریاستی پالیسی کا تسلسل ہے۔ ایک طالب علم رہنما کو جبری گمشدگی کا شکار بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکمران طبقے کے پاس سیاسی و فکری اختلاف کا سامنا کرنے کی سکت نہیں ہے، اور وہ محض جبر کے بل بوتے پر اپنے فیصلے مسلط کرنا چاہتی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ عمار بلوچ کی گمشدگی ان عوام دشمن پالیسیوں کا حصہ ہے جنہوں نے ملک کے کونے کونے کو سیاسی طور پر غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ آج ملک بھر میں انسدادِ بغاوت کے نام پر ہر قسم کی جمہوری اور پرامن سیاسی سرگرمی کو جرم قرار دے دیا گیا ہے۔ ریاست نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جہاں سیاسی کارکنوں کو آئینی دائرے سے باہر کر کے لاپتہ افراد کے زمرے میں دھکیل دیا ہے، جو کہ کسی بھی مہذب معاشرے کے دعوؤں کی مکمل نفی کرتا ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ آج پوری دنیا اور خطے کے اندر شدید سیاسی و معاشی بحران موجود ہیں۔ جو ریاستیں بدلتے ہوئے حالات میں اجتماعی حقوق اور سیاسی مسائل کے حل سے گریزاں رہتی ہیں، وہ ناگزیر طور پر جبر اور طاقت کا سہارا لیتی ہیں۔ ایک جانب ملک کے طول و عرض اور بالخصوص پیریفریز میں غیراعلانیہ میڈیا سنسرشپ کے ذریعے حقائق کو چھپایا جا رہا ہے، تو دوسری جانب یکطرفہ بیانیہ مسلط کرکے حقائق تک عوام کی رسائی کو مشکل بنا دیا گیا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ عمار بلوچ ایک پُرامن اور جمہوریت پسند طلبہ سیاسی رہنما ہیں، ان کی جبری گمشدگی براہ راست جمہوریت اور طلبہ کے سیاسی حقوق پر حملہ ہے، ہم تمام ترقی پسند سیاسی جماعتوں، انسانی حقوق کے اداروں، طلبہ تنظیموں، وکلاء اور صحافی برادری سے پرزور اپیل کرتی ہے کہ وہ عمار بلوچ کی باحفاظت اور فوری بازیابی کے لیے آواز اٹھائیں اور اس غیر جمہوری جبر کے خلاف اصولی مؤقف اپنائیں۔


