بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے بیان میں کہا ہے کہ سندھ پبلک سروس کمیشن کے 2024 کے نتائج میں بے ضابطگیاں ادارے کی ساکھ کو واضح کرتی ہے جو میرٹ کو پامال کرکے رشوت، اقربا پروری اور جعلسازی کی بنیاد پر اپنی وجود برقرار رکھی ہوئی ہے، بی ایس او میرٹ کی پامالی کی بھرپور مذمت کرتی ہے اور سندھ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے زیرِ قیادت پُرامن احتجاجی دھرنے کو مکمل یکجہتی اور حمایت کا یقین دلاتی ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ سات ہزار امیدواروں میں محض ستر کو رشوت اور سفارش کی بنیاد پر منتخب کرنا میرٹ سے روگردانی اور مخصوص طبقات کے مفادات کو تحفظ دینے کے مترادف ہے۔ عام محنتی اور باصلاحیت طلبہ کی محنت کو نظر انداذ کیئے جانے کا المیہ کسی مخصوص صوبے تک محدود نہیں ہے بلکہ بلوچستان کے طلبہ بھی اس نوعیت کے استحصال، میرٹ کشی اور اداروں کی بے حسی کا سامنا برسوں سے کررہے ہیں، بی ایس او سندھ کے طلبہ کے جائز مطالبات کی بھرپور حمایت کرتی ہے نیز ان کی 14 روز کی طویل احتجاجی دھرنے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے ۔
ترجمان نے کہا کہ ملک کے طول و عرض میں طلبہ کو مختلف ہتھکنڈوں کے استعمال سے دیوار سے لگانے کی کوشش کی جاتی ہے جن میں تعلیمی اداروں کی ملٹرائزیشن، سمسٹر فیسوں میں بے تحاشہ اضافے، طالبات کی ہراسانی، طالب علم رہنماؤں کی جبری گمشدگی اور میرٹ کی پامالیاں شامل ہیں، بی ایس او سمجھتی ہے کہ کشمیر سے لیکر چترال اور بولان سے لیکر مہران تک کے طلبہ کو منظم سیاسی اہداف کے حصول کے لیے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو کچلا جاتا ہے۔ حکمران طبقات کی طلبہ پر منظم حملے کو مظلوم طبقات و محکوم اقوام کے طالب علموں کی مشترکہ و اجتماعی جہدوجہد سے ہی شکست سے دو چار کیا جا سکتا ہے ۔


