قدیر بلوچ
انسانی تاریخ انقلابی تحریکوں سے بھری پڑی ہے۔ ان تحریکوں میں چند ایسے نام ابھر کر سامنے آتے ہیں جو رہتی دنیا تک مشعلِ راہ بن جاتے ہیں۔ تاریخ ہمیشہ اُن لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو اپنی قوم اور وطن کے لیے بے مثال قربانیاں دیتے ہیں۔ چاہے بالشویک انقلاب میں لینن ہوں، کیوبا کے انقلاب میں فیڈل کاسترو اور چی گویرا ہوں، یا انقلابِ چین میں کامریڈ ماؤ زے تنگ—یہ وہ شخصیات ہیں جنہوں نے اپنے عوام کے لیے ہر ظالم و جابر قوت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور تاریخ میں اپنا نام امر کر دیا۔
بلوچ قومی تحریک میں بھی ایسے کئی عظیم نام موجود ہیں جنہوں نے بلوچ قوم کی بقا اور وقار کے لیے بے پناہ قربانیاں دیں۔ انہی میں ایک نمایاں نام کامریڈ فدا بلوچ کا ہے، جنہوں نے بلوچ قوم کے دکھ، درد، محرومی اور غلامی کو سمجھتے ہوئے اپنی پوری زندگی اسی جدوجہد کے لیے وقف کر دی۔شہید
کامریڈ فدا بلوچ کم عمری ہی میں بلوچ قومی تحریک کا حصہ بن گئے تھے۔ انہوں نے بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے بلوچ قوم کے روشن مستقبل کے لیے جدوجہد کا آغاز کیا۔ تربت میں پرورش پانے والا یہ نوجوان راجی شعور اور انقلابی فلسفے سے بخوبی آراستہ تھا۔
فدا بلوچ کی فکر اور فلسفہ آج بھی چلتن کی چوٹیوں سے لے کر تعلیمی اداروں تک گونج رہا ہے۔
جب 1980 کی دہائی میں کامریڈ فدا بلوچ ایک عوامی رہنما کے طور پر ابھر کر سامنے آئے، تو نہ صرف ریاست بلکہ اس کے حامی اور نام نہاد پارلیمنٹیرینز بھی اُن سے خائف ہو گئے۔ دشمن نے انہیں ایک بڑی رکاوٹ سمجھتے ہوئے راستے سے ہٹانے کی سازش کی، مگر انقلابی رہنماؤں کے نظریات کبھی ختم نہیں ہوتے، بلکہ صدیوں تک زندہ رہتے ہیں۔ اسی تسلسل میں 2 مئی 1988 کو کامریڈ فدا بلوچ کو اُن کی کتابوں کی دکان پر بے دردی سے شہید کر دیا گیا، اُن کے سینے کو گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔ لیکن اُن کی فکر، فلسفہ اور نظریہ آج بھی بلوچ قوم کی رہنمائی کر رہا ہے۔
وہ کتابیں جو فدا کے سرخ لہو سے رنگین ہو گئیں، آج بھی قومی شعور کی روشنی پھیلا رہی ہیں۔ بلوچستان کے چپے چپے میں فدا کا نام ایک عظیم رہنما کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
آج بلوچ قوم کو ضرورت ہے کہ وہ جہدِ فدا کو اتحاد و اتفاق کے ساتھ منزلِ مقصود تک پہنچائے۔



