‎جبر کے اندھیروں میں روشنی کی تلاش‎‎

تحریر: قدیر بلوچ

‎‎جب بھی ہم انسانی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں ظلم، جبر، استحصال اور مزاحمت کی بے شمار داستانیں ملتی ہیں۔ ہر دور میں ایسے طبقات موجود رہی ہیں جنہوں نے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کی، ظلم کے خلاف آواز بلند کی اور اپنے وجود کو مٹنے نہیں دیا۔

‎‎ جتنی پرانی سامراج کی تاریخ ہے، اتنی ہی پرانی اس کے ظلم، جبر، بربریت اور قبضہ گیری کی تاریخ بھی ہے، کیونکہ سامراج کی بنیاد ہی طاقت، استحصال اور محکوم طبقات پر تسلط قائم کرنے پر رکھی گئی ہے۔ جہاں جہاں سامراج نے اپنے قدم جمائے، وہاں وہاں اس نے مقامی لوگوں کی آزادی، شناخت اور بنیادی حقوق کو پامال کرنے کی کوشش کی۔

‎‎‎کالونائزر کی نفسیات کا ایک بنیادی پہلو یہ ہے کہ وہ جس خطے کو اپنی کالونی بناتا ہے، وہاں کی زبان، تہذیب، ثقافت، تاریخ اور قومی شناخت کو مسخ کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ آنے والی نسلیں اپنی اصل سے ناواقف رہیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ یہی پالیسیاں بالآخر سامراج کی ناکامی اور شکست کا سبب بنتی ہیں۔ جن طبقات یا اقوام کی شناخت مٹانے کی کوشش کی جاتی ہے، وہی طبقات اور قومیں اپنی شناخت کے تحفظ کے لیے مزید مضبوط عزم کے ساتھ میدان میں اترتی ہیں۔

‎‎‎بلوچستان اور بلوچ قوم بھی کئی دہائیوں سے اپنے بنیادی حقوق، اپنی زبان، اپنی تاریخ اور اپنی تہذیبی شناخت کے تحفظ کے لیے پُرامن جدوجہد کر رہے ہیں۔ بلوچ عوام نے ہر ممکن فورم پر اپنی آواز بلند کی اور دنیا کو اپنے مسائل سے آگاہ کرنے کی کوشش کی۔ بلوچ قوم بھی دنیا کی ان مظلوم اقوام میں شامل ہے جنہوں نے ہمیشہ ظلم و جبر کے خلاف مزاحمت کی روایت کو زندہ رکھا ہے۔ بلوچ نوجوان کئی دہائیوں سے اپنی قوم پر ہونے والی ناانصافیوں کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس جدوجہد میں وہ ایک حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔

‎‎‎اکیسویں صدی بلوچ مزاحمت کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ اس دور نے بلوچ قومی شعور اور مزاحمتی سیاست کو ایک نئی روح بخشی۔ صدی کے آغاز سے لے کر آج تک بلوچ عوام مختلف محاذوں پر اپنے حقوق کے لیے ڈٹے ہوئے ہیں۔ اس عرصے میں کئی ایسی شخصیات سامنے آئیں جنہوں نے قومی تحریک کو نئی توانائی عطا کی، جن میں ماما قدیر بلوچ، پروفیسر صبا دشتیاری، بانک کریمہ بلوچ، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر بے شمار بلوچ مرد و خواتین شامل ہیں۔

‎‎ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اس صدی میں بلوچ قوم کی سب سے توانا اور مؤثر آوازوں میں شمار ہوتی ہیں۔ انہوں نے بلوچ راج کو یکجا کرنے، قومی شعور بیدار کرنے اور انسانی حقوق کی آواز بلند کرنے کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔ جب بھی بلوچ قوم اور قومی تحریک کی بات ہوگی، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا نام احترام اور عزم کے ساتھ لیا جائے گا۔ ایسی شخصیات اپنی ذات سے بڑھ کر ایک فکر اور ایک تحریک کی علامت بن جاتی ہیں۔

‎‎ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ جبر کے اندھیروں میں روشنی کی تلاش کے سفر پر نکلیں۔ ان کی آواز نے ہزاروں نوجوانوں کو امید، حوصلہ اور مزاحمت کا درس دیا۔ آج وہ بلوچ قوم کے لیے امید کی علامت اور ایک بہتر مستقبل کی نوید بن چکی ہیں۔ اگرچہ وہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہی ہیں، لیکن ان کے نظریات اور جدوجہد کی بازگشت بلوچ سماج کے ہر گوشے میں سنائی دیتی ہے۔ ایک فرد کو قید کیا جا سکتا ہے، مگر اس کے افکار اور نظریات کو دیواروں کے اندر محدود نہیں کیا جا سکتا۔

‎‎آج ایک باشعور کارکن جیل میں ہے، لیکن اس کا نظریہ آزاد ہے۔ وہ نظریہ بلوچ معاشرے کے ہر گھر، ہر گلی اور ہر نوجوان کے ذہن میں زندہ ہے۔ یہی نظریہ ظلم کے خلاف مزاحمت، شعور، اتحاد اور اپنے حقوق کے حصول کی جدوجہد کا درس دیتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جبر ہمیشہ عارضی ہوتا ہے، جبکہ حق، شعور اور مزاحمت کی روشنی آخرکار اندھیروں کو شکست دے دیتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *