بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت کو عمر قید کی غیر قانونی سزا بدترین سیاسی انتقام ہے؛ عدالتی جبر سے ہماری منظم جدوجہد کو نہیں روکا جا سکتا۔ مرکزی ترجمان بی ایس او

‎‎‎بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) کے مرکزی ترجمان نے کوئٹہ کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جانب سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر قیادت کو جھوٹے مقدمات میں عمر قید کی سزا سنائے جانے کو ریاستی جبر اور انصاف کا قتل قرار دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالتیں آزاد نہیں، بلکہ مُقتدِر قوتوں کےلئے سیاسی مخالفین کو کچلنے کا ہتھیار بن چکی ہیں۔ اس کیس کا ٹرائل انتہائی غیر قانونی اور غیر شفاف طریقے سے ‘آن لائن’ چلایا گیا۔ سیاسی رہنماؤں کو نہ تو اپنے دفاع کا موقع دیا گیا اور نہ ہی انہیں اپنی مرضی کا وکیل کرنے کا آئینی حق ملا۔ بند کمروں اور ویڈیو لنکس کے ذریعے سنائے گئے یہ جبری فیصلے رائٹ ٹو فیئر ٹرائل کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔اان ہتھکنڈوں کا اصل مقصد اس ابھرتی ہوئی سیاسی قیادت کو راستے سے ہٹانا اور بلوچ عوام کی توانا آواز کو خاموش کرنا ہے۔ لیکن حکمرانوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ قید خانے، خوف اور غیر قانونی عدالتی فیصلےنا ماضی میں بلوچ قوم کے جدوجہد کے عزم کو کمزور کر پائی اور نا ہی یہ آج کی تاریخ میں ممکن ہے ۔

‎‎مرکزی ترجمان نے مزید کہا کہ سیاسی قیادت کو قید کرنے کے ساتھ ساتھ، ریاست نے انسداد دہشت گردی کے اداروں اور قوانین کو پرامن بلوچ سیاسی کارکنوں، طالب علموں اور عام شہریوں کے خلاف ایک ‘اجتماعی سزا’ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ بغیر کسی ثبوت کے پرامن ورکرز کو فورتھ شیڈول میں ڈال کر ان کے بینک اکاؤنٹس بند کیے جا رہے ہیں، روزمرہ کی زندگی مفلوج کی جا رہی ہے اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔ اس منظم ریاستی جبر کا حتمی مقصد بلوچستان کے عوام کو ان کی اپنی زمین پر خوفزدہ اور بے دخل کرنا ہے۔ اس تنازعے کی آڑ میں ریاست گوادر سے لے کر ریکوڈک تک بلوچ وسائل کو ملکی اور عالمی سرمایہ داروں کی لوٹ مار کے لیے کھولنا چاہتی ہے۔

‎‎بی ایس او کے مرکزی ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں بلوچ نوجوانوں اور عوام سے براہِ راست مخاطب ہوتے ہوئے کہا: “ریاست کے اس بے تحاشا جبر اور سیاسی قیادت کی قید کا جواب صرف اور صرف ہماری منظم سیاسی جدوجہد میں ہے۔ جب تک ہم ایک مضبوط سیاسی طاقت نہیں بنتے جو بلوچ قوم کی اجتماعی مرضی کی حقیقی نمائندگی کر سکے، ہم محکومی اور استحصال کے اس چکر سے نہیں نکل سکتے۔ قومی بقا، وسائل کی حفاظت اور ایک باوقار سیاسی زندگی کا راستہ صرف سیاسی مزاحمت سے ہو کر گزرتا ہے۔ بی ایس او ہر قسم کے ریاستی ہتھکنڈوں کو مسترد کرتی ہے اور ہم اپنے بنیادی، آئینی اور سیاسی حقوق کے حصول کے لیے اپنی پختہ اور ناقابلِ مصالحت جدوجہد جاری رکھیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *