بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان بھر میں جبری گمشدگیوں اور اغواء نما گرفتاریوں میں بے تحاشہ اضافہ ملکی و بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے، طالب علم رہنما بابل بلوچ جمہوری سیاسی عمل کے الم برادر ہیں ان کی اغواء نما گرفتاری کی بھرپور مذمت کرتے ہیں نیز مطالبہ کرتے ہیں کہ ان سمیت تمام لاپتہ افراد کو باحفاظت بازیاب کیا جائے ۔
ترجمان نے کہا کہ خطے میں ریاستی جارحیت اور طاقت کے استعمال میں غیر معمولی اضافہ سنگین نوعیت اختیار کر چکی ہے، سیاسی عمل پر غیر اعلانیہ قدغن جمہوری روایات کی بیخ کُنی کے مترادف ہے۔ بی ایس او طاقت کے زور پر جمہوری آوازوں کو دبانے کی سازش کو مسترد کرتی ہے اور تمام سیاسی جماعتوں، طلبہ تنظیموں، سول سوسائٹیز سے اپیل کرتی ہے کہ بلوچستان میں جاری ریاستی بربریت اور بالخصوص تعلیمی اداروں سے طلبہ رہنماؤں کی جبری گمشدگیوں کے خلاف منظم ہوں



