‎بی ایس او وڈھ زون کی جانب سے افغان ثور انقلاب پر اسٹڈی سرکل کا انقاد کیا گیا، لیڈ آف زونل صدر سنگت قدیر بلوچ نے دی

سرکل کا آغاز دنیا بھر اور بلوچ شہیدوں کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی اور انقلابی شاعری سے کی گئی

،‎ ‎افغان ثور انقلاب پر بات کرتے ہوئے سنگت نے کہا کہ ہمیں انسانی تاریخ میں بہت سے ایسے واقعات کا ذکر ملتا ہے جہاں تاریخ نے مجموعی طور پر کروٹ بدلی اور سماج فطری ارتقاء کی جانب محوِ سفر رہے، افغان سور انقلاب انہی غیر معمولی واقعات میں سے ایک ہے جس کے سبب زندگی کو نئے سرے سے آغاز ملی- ساتھی نے کہا کہ 28 اپریل 1978ء کو افغانستان میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی افغانستان کی زیر قیادت فوجی انقلاب کے ذریعے اس وقت کے صدر داؤد خان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا، اسے تاریخ میں ثور انقلاب یا اپریل انقلاب کہا جاتا ہے ۔ داؤد خان کو اس کے خاندان سمیت صدارتی محل میں قتل کر دیا گیا اس انقلاب کے نتیجے میں نور محمد ترہ کئی نے بطور صدر (جنرل سیکرٹری ، انقلابی کونسل ) کے اقتدار سنبھالا، جو ملک میں 1979ء میں سویت مداخلت اور سویت افغان جنگ (1979–1989) تک عہدے پر فائض رہے۔ یہ انقلاب اس خطے میں محنت کشوں، دہقانوں، نوجوانوں اور مظلوموں کی وہ واحد سرکشی تھی جس نے افغانستان سے فرسودہ قبائلیت، جاگیرداری اور سرمایہ داری کا خاتمہ کیا تھا، ایک طبقات سے پاک انسانی معاشرے کی تعمیر کا آغاز کیا تھا اور ہمسایہ ممالک میں انقلابیوں اور انقلابی تبدیلی کے لیے جدوجہد کرنے والوں میں ایک نئی روح پھونک دی تھی۔

سنگت نے کہا کہ افغانستان کی ثور انقلاب کا زیاد تر مخالفت مذہبی گروہوں نے کی اور ان کا تعلق 1973 سے پاکستان کے ساتھ تھا، شاه ظاہر شاہ کے حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد گلبدین حکومت کے کئی ہامی بھاگ کر پاکستان آگئے ‎جہاں پاکستان نے انہیں پناه دی اور امریکہ پاکستان کے ذریعے ان کو اسلحہ اور ٹریننگ دیتا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *