لسبیلہ یونیورسٹی کے سب کیمپس وڈھ کا باقاعدہ افتتاح سال 2017 میں کیا گیا، مگر افسوس کہ تقریباً نو سال گزرنے کے باوجود آج بھی طلبہ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ تعلیمی سرگرمیاں ایک پرانی اسکول عمارت میں جاری ہیں، جبکہ ہاسٹل کے طلبہ بھٹو دور میں تعمیر شدہ صرف تین کمروں پر مشتمل خستہ حال کوارٹرز میں رہنے پر مجبور ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف انتظامیہ کی غفلت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ طلبہ کے مستقبل سے سنگین مذاق بھی ہے۔
یونیورسٹی کی مستقل عمارت کا تعمیراتی کام بھی گزشتہ نو سال سے سست روی اور غیر سنجیدگی کا شکار ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اتنے طویل عرصے کے باوجود اب تک کیمپس کی چار دیواری تک مکمل نہیں کی جاسکی۔ سال 2025 کے اواخر میں ایک بار پھر تعمیراتی کام شروع کیا گیا، جس سے طلبہ میں امید پیدا ہوئی، مگر چند ماہ بعد بغیر کسی وضاحت کے کام دوبارہ روک دیا گیا، جو تاحال تعطل کا شکار ہے۔ یہ مسلسل تاخیر نہ صرف انتظامیہ کی ناقص منصوبہ بندی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ طلبہ کو ایک بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنے میں مکمل ناکامی بھی ہے۔کیمپس میں ڈیجیٹل لائبریری کی عدم
موجودگی، ایجوکیشن جیسے اہم ڈیپارٹمنٹ میں ٹیچر کی کمی سے لیکر باقی ڈیپارٹمنس میں بھی ٹیچر کی فقدان ، فیکلٹی ارکان کی مستقلی کا مسئلہ، ایگریکلچر لیب میں ضروری آلات اور سہولیات کا فقدان، سکالر شپوں کی کمی، پینے کے صاف پانی کا مسئلہ، پورے کیمپس میں وائی فائی نظام ، فیسٹیولز، کھیلوں کے سامان کی کمی اور طلبہ کے لیے سالانہ آل پاکستان مطالعاتی دوروں کی مسلسل منسوخی جیسے مسائل انتظامیہ کی غیر سنجیدگی کا واضح ثبوت ہیں۔ ایک یونیورسٹی کیمپس میں وہ تمام سہولیات میسر ہونی چاہئیں جو طلبہ کی تعلیمی، تحقیقی اور ذہنی نشوونما کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہیں، مگر وڈھ کیمپس کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے۔ وڈھ ایک پسماندہ مگر علم دوست علاقہ ہے جہاں سے طلبہ سینکڑوں مشکلات برداشت کرکے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے آتے ہیں، لیکن افسوس کہ حکام بالا کی بے حسی اور غیر سنجیدہ رویے نے طلبہ میں شدید مایوسی پیدا کردی ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو یہ نہ صرف علاقے کے نوجوانوں کے مستقبل بلکہ پورے تعلیمی نظام کے لیے ایک سوالیہ نشان بن جائے گا۔
حال ہی میں پرائم منسٹر یوتھ لیپ ٹاپ اسکیم کے تحت طلبہ میں لیپ ٹاپ تقسیم کیے جانے تھے، مگر انتظامیہ کی جانب سے فیس کو جواز بنا کر متعدد طلبہ کے لیپ ٹاپ روک دیے گئے۔ یہ اقدام نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ طلبہ کے بنیادی تعلیمی حقوق کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے، کیونکہ پرائم منسٹر یوتھ اسکیم کا یونیورسٹی فیس سے کوئی تعلق نہیں۔ غریب اور دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ پہلے ہی شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں، ایسے میں ان کے تعلیمی حق پر مزید قدغن لگانا انہیں تعلیم چھوڑنے پر مجبور کرنے کے مترادف ہے۔
بی ایس او وڈھ زون دوٹوک الفاظ میں یہ واضح کرنا چاہتی ہے کہ طلبہ کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ طلبہ کے جائز مطالبات کے حصول کے لیے ہر ممکن جمہوری اور آئینی جدوجہد کی جائے گی، اور اگر انتظامیہ نے فوری طور پر مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات نہ اٹھائے تو شدید احتجاجی لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔



