بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگیوں کے واقعات میں بے دریغ اضافہ تشویشناک ہے۔ غیر قانونی اغواء کاریوں کا سلسلہ روکا جائے۔ ترجمان بی ایس او ۔

‎ترجمان بی ایس او نے بیان میں کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں بلوچستان بھر میں جبری گمشدگیوں کے سلسلے میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، اسی تسلسل میں گزشتہ شب فورسز نے تربت سے تعلق رکھنے والی بولان میڈیکل کالج میں بی ایس نرسنگ کی طالبہ خدیجہ بلوچ کو گرلز ہاسٹل سے جبری طور پر گمشدہ کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کیا ہے، بلوچ طالبات کی جبری گمشدگی قابل مذمت ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں خدیجہ بلوچ سمیت تمام لاپتہ افراد کی باحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے ۔

‎‎ترجمان نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے ریاستی جارحیت میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے، ریاستی ادارے فاشزم کی نئی بنیادیں رکھ رہی ہیں، مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کا سلسلہ ہو، ٹارگیٹ کلنگز ہوں، فوجی آپریشنز ہوں، یا پھر جبری گمشدگیاں ہوں ان غیر انسانی پالیسیوں میں مسلسل تندی بلوچستان بھر میں انسانی زندگی کے امکانات کو محدود کرنے کی منظم کوشش کی جارہی ہے جو کہ ملکی و عالمی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے

‎ہم ملک بھر کے تمام سیاسی حلقوں، وکلاء تنظیموں، سول سوسائٹیز سے اپیل کرتے ہیں وہ بلوچ نسل کش ریاستی پالیسیوں کے بر خلاف منظم ہوں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *