بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن وڈھ زون کا زونل اجلاس منعقد

‎‎‎بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن وڈھ زون کے زیرِ اہتمام زونل اجلاس، زونل صدر قدیر بلوچ کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جبکہ اجلاس کی کارروائی زونل جنرل سیکرٹری سنگت منظور بلوچ نے چلائی۔

‎‎اجلاس میں تنظیمی امور، بلوچستان کی موجودہ صورتحال، اور آئندہ کے لائحہ عمل جیسے اہم ایجنڈے زیرِ بحث لائے گئے۔

‎‎اجلاس کا باقاعدہ آغاز دنیا بھر کے مظلوم اقوام، خصوصاً شہدائے بلوچستان کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کرکے کیا گیا۔

‎‎دوستوں نے بات کو مزید بڑھاتے ہوئے کہا کہ تنظیم کی تاریخ نہایت قدیم ہے۔ اگر انسانی سماجی ارتقاء کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی انسان بھی اجتماعی اور تنظیمی صورت میں زندگی گزارتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ انسانی سماج نے ترقی کی تو تنظیم بھی مختلف ارتقائی مراحل سے گزرتی رہی۔ تنظیم محض ایک نام نہیں بلکہ ایک بڑی ذمہ داری ہے—ایسی ذمہ داری جس سے ایک قوم کی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔

‎‎انہوں نے مزید کہا کہ جب بلوچستان پر برطانوی قبضہ تھا، تو 1920 میں عبدالعزیز کرد نے “انجمن اتحاد بلوچاں” کے نام سے ایک تنظیم قائم کی۔ بعد ازاں، 1948 کے بعد بلوچ قوم کو ایک منظم پلیٹ فارم کی ضرورت محسوس ہوئی، جس کے نتیجے میں بی ایس او کا قیام عمل میں آیا۔ بی ایس او نے بلوچ سیاست میں موجود خلا کو پُر کرنے کے لیے بھرپور جدوجہد کی، اور آج بھی یہ تنظیم اپنے بنیادی اصولوں کے تحت بلوچ قوم کے مفاد میں سرگرمِ عمل ہے۔

‎‎بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے ساتھیوں نے کہا کہ بلوچ قوم اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے، جہاں روزانہ کی بنیاد پر نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی جا رہی ہیں۔ ریاستی جبر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے؛ پہلے بلوچ سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا جاتا تھا، پھر جبری گمشدگیوں کا سلسلہ شروع ہوا، اور اب ہر اس شخص کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو بلوچ شناخت رکھتا ہے۔

‎‎مزید دوستوں نے عالمی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں ہونے والی جنگ کے معاشی اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ اسی تناظر میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے بلوچستان کی معیشت پر بھی منفی اثرات ڈالے ہیں۔ خاص طور پر مغربی بلوچستان کے وہ علاقے، جہاں لوگوں کا انحصار بارڈر تجارت پر ہے، شدید معاشی بحران کا شکار ہو چکے ہیں۔

‎‎اجلاس کے اختتام پر آئندہ کے لائحہ عمل پر گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا کہ تنظیمی سرگرمیوں کو ہر صورت فعال رکھا جائے اور نوجوانوں کو منظم کرکے جدوجہد کو مزید مؤثر بنایا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *