بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نال زون کے ترجمان نے بیان میں کہا ہے کہ زہری میں جاری فوجی بربریت، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں، آبادیوں پر شیلنگ اور شہری زندگی کو مفلوج کرنے والے کرفیو کے خلاف بلوچستان نیشنل پارٹی کی احتجاجی کال کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ میر خلیل احمد موسیانی کو شہید کرنے کے بعد ان کی میت خاندان کے حوالے نہ کرنا، بزرگ سردار نصیر احمد موسیانی کی تذلیل، اور متعدد افراد کو جبری طور پر لاپتہ کرنا ایسے جرائم ہیں جو نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ بلوچستان میں جاری بلوچ نسل کش پالیسیوں کا تسلسل ہیں۔ زہری کے عوام کو اجتماعی سزا دینا اور خوف کے ذریعے خاموشی مسلط کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔
ہم تمام بلوچ عوام، سیاسی کارکنوں، طلبہ، وکلاء، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس احتجاج میں بھرپور شرکت کرکے زہری کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔ آج خاموشی ظلم کو مزید طاقت دیتی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم متحد ہو کر زہری سمیت بلوچستان بھر میں جاری ریاستی مظالم کے متحد ہوکر جدوجہد کریں۔


