بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے ترجمان نے بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان بھر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ مزید طول پکڑ رہی ہے، روزانہ کی بنیاد پر درجنوں بھر لاشیں برآمد ہونا، جبری گمشدگیوں میں غیر معمولی اضافے، جعلی مقابلوں میں قتل و غارتگری، سماجی توازن کی بگاڑ کیلئے ڈیتھ اسکواڈز کی تشکیل اور جمہوری سیاسی عمل پر قدغن سے سماجی ہیجان میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے، خوف و ہراس سے زندگی کو محدود کرنے کی سازشوں کا سلسلہ روکا جائے۔
ترجمان نے کہا کہ دو روز قبل گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور پرو وائس چانسلر کی جبری گمشدگی نے شعوری حلقوں میں بیچینی پیدا کردی تھی کہ کل بلوچ دانشور، شاعر، مصنف پروفیسر غمخوار حیات کی نوشکی میں بہیمانہ قتل نے پورے بلوچستان کو سوگوار کردیا ہے۔ علم، شعور و آگہی اور درس و تدریس سے منسلک افراد متوازن سماج تشکیل میں فیصلہ کن انقلابی کردار ادا کرتے ہیں، ان کے ساتھ وحشیانہ برتاؤ بلوچ سماج کی فکری بنیادوں پر منظم حملہ تصور کرتے ہیں۔ بی ایس او جامعہ گوادر کے پروفیسرز کی جبری گمشدگی اور پروفیسر غمخوار حیات کی بہیمانہ قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور یہ مطالبہ کرتی ہے کہ ان کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کو یقینی بناکر انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ نیز بی ایس او پروفیسر شہید غمخوار حیات کی زبان و ادب، اور فکری آگہی کیلئے ان کی لازوال قربانیوں پر انہیں خراج تحسین پیش کرتی ہے اور یہ سمجھتی ہے کہ پروفیسر غمخوار حیات کے گراں قدر ادبی خدمات انمٹ نقوش چھوڑ کر نسل در نسل ہماری رہنمائی کا باعث بنے گی۔


