بابو شیرو مری؛ جدوجہد اور بغاوت کی علامت! تحریر ظریف رند

11- مئی2017

مسلسل جدوجہد اور بغاوتیں انسانی تاریخ کی مرکزی بنیادیں رہی ہیں اور بنی نوع انسان اپنی تاریخی سفر کے اندر فطرت کی پرپیچ تضادات کا مقابلہ کرتے ہوئے جدوجہد اور قربانیوں کے ساتھ آج تک کا لاکھوں سالہ سفر طے کر پایا ہے۔انسان نے بنیادی جدوجہد فطرت کی پیچیدگیوں پر قابو پانے اور اپنی زندگیوں کو سہل بنانے کیلئے کی ہے جس میں خوراک ، چھت اور اپنا تن ڈھکنے جیسی بنیادی ضروریات سے لیکر فلسفہ ، آرٹ اور سائنس و ٹیکنالوجی جیسے اعلیٰ سطح کے مراحل کو مسلسل شعوری جدوجہد اور لازوال قربانیوں سے عبور کیا ہے۔اس تاریخی سفر کے اندر مختلف عہد میں انسان مختلف سماجوں اور تہذیبوں کے تجربات سے گزرا ہے اور مختلف ادوار میں جدوجہد اور آگے بڑھتے رہنے کی راہیں نئے قربانیوں اور نئی شکل میں متحرک ہونے کا تقاضہ کرتی رہی ہے جس میں پرانے اشتراکی سماج سے لیکر غلام داری نظام اور پھر جاگیرداری نظام سے اب سرمایہ داری نظام تک کا سفر انتہائی کٹھن ، طبقاتی کشمکش اور بیش بہا اجتماعی قربانیوں کا مجموعہ ہے جس سے بنی نوع انسان قلت سے بہتات تک تو آ پہنچناہے مگر حقیقی انسانی تہذیب کی چاہت ماضی سے زیادہ اور بڑھتی ہی جا رہی ہے کیونکہ انسان بنیادی ضروریات سے لگژری گلوبل ولیج تک تو آن پہنچا مگر ایک مہذب انسانی سماج کا خواب اب تک شرمندہ تعبیر ہونا باقی ہے اور اس حقیقی انسانی سماج کی تعمیر اور ارتقائی سفر میں آگے بڑھنے کا بوجھ آج کی نسلیں اپنے کاندھوں پر لیئے پہر رہی ہیں۔ جاگیردارانہ نظام کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد جب انسان سرمایہ داری میں داخل ہوا تو بلا شْبہ سرمایہ داری نے بے شمار نئے حاصلات دیئے مگر جیسے کہ اس نظام کی بطن میں دولت کی ہوس ، جبر و استحصال اور لوٹ کھسوٹ موجود ہے اور دولت اور وسائل کی ملکیت پوری انسانیت کی نہیں بلکہ چند منافع خور سرمایہ داروں کی ہی ہوتی ہے اور قانون و حکم کی لاٹھی دولتمندوں کی لونڈی بنی رہتی ہے تو پھر اکثریت پر اقلیت کی حکمرانی قائم ہو جاتی ہے اور یہ بھی تاریخ میں امر ہے کہ ان منافع خور جابر حکمرانوں نے اپنی مفادات و مراعات میں اضافے کی خاطر دنیاکو بار بار جنگوں میں بھی جھونکا اور انسانی تہذیبوں و سماجوں کا بلاتکار بھی کرتے رہے ہیں جو ہنوز جاری ہے ، لیکن ان سرمایہ داروں کے خلاف محکوم عوام کی عظیم انقلابات شاندار جدوجہد اور بغاوتیں بھی تاریخ کا روشن حصہ ہیں جس میں محنت کش عوام نے بار بار تاریخ کی کھسوٹی پر اپنا طرہ امتیاز بلند رکھا ہے اور انصاف و برابری کی بنیاد پر مبنی انسانی سماج کی تعمیر کا درست انقلابی کام جاری رکھا ہے۔ سرمایہ دارانہ ریاستوں نے جب لوٹ مار اور استحصال کی غرض سے سامراجی روپ دھارنا شروع کیا توانہوں نے اپنی اپنی کالونیاں بنانی شروع کیں اور پسماندہ ریاستوں کو لوٹ کر اپنی ریاستوں میں دولت جمع کرتے رہے جس کی وجہ سے قومی ریاستوں کے مابین نفرتوں اور جنگوں و بغاوتوں کا آغاز ہوا ۔ اس میں برطانوی سامراج کا برصغیر پر جبری قبضہ اس کی دولت کی لوٹ مار اور جابرانہ پالیسیاں تاریخ کے پنّوں پر نقش ہیں اور ساتھ ہی سامراج کے خلاف بغاوتوں کی لمبی فہرست بھی موجود ہے۔ قبضہ گیری پالیسی اور لوٹ کھسوٹ کے خلاف دنیا کے بیشمار انقلابی باغیوں میں بلوچستان کی سنگلاخ پہاڑوں کا ایک عظیم لیڈر بھی شمار ہوتا ہے جسے دنیا بابو شیرو مری یا جنرل شیروف کے نام سے جانتی ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی استحصال اور نابرابری کے خلاف لڑتے ہوئے وقف کی اور طبقات سے پاک انسانی سماج کے تعمیر کیلئے زندگی بھر جدوجہد کرتے ہوئے اپنا تاریخی فرض ادا کیا۔میر شیر محمد مری قبیلہ کے سب سے بڑے شاخ بجارانی قبیلہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد برطانوی راج کے خلاف بغاوت کے دوران شہید کر دیئے گئے اور شیرو کے خاندان کو انگریز حکومت نے کالا پانی (جزیرہ انڈمان) بھیج دیا تھا۔ واپسی میں دوران سفر شیرو کی پیدائش ہوئی تھی۔ شیرمحمد مری بنیادی طور پر جاگیردار طبقے سے تعلق رکھتے تھے مگر ان کی ملکیت پر دوسرے لوگ قابض تھے۔ ان کی زندگی شروع دن سے مشکلات بھری تھی۔ وہ بچپن میں چرواہا بھی رہے، محنت مزدوری بھی کی اور ننگے پاوٗں ایک قمیص میں روزانہ تین میل کے فاصلے پر سکول بھی جاتے رہے۔ پانچویں جماعت میں فرسٹ پوزیشن لینے پر انکو 12 روپے کا اسکالرشپ ملا اور انہی پیسوں میں اپنی تمام ضروریات پورا کیا کرتے تھے۔ ابتدائی عملی زندگی میں لاہور میں ٹیکسی ڈرائیور بھی رہے اور اپنی پشتینی ملکیت واپس حاصل کر لینے کے بعد اپنی زمین پر خود ہل چلایا محنت کی ، اپنا مکان بنایا اور اپنے علاقے کے لوگوں سے میل جو ل میں ان کی انتہائی غربت کی زندگی نے انہیں متاثر کیا اور ان کے خیالات انقلابی جدوجہد کی طرف راغب ہوئے۔بقول شیرو کے بچپن سے یتیمی اور دکھوں نے ان کے مزاج کو حساس بنایا اور پھر وہ زندگی بھر باغی رہے۔ بابو شیرو مری نے انگریز راج کے خلاف اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا اور 1946 میں “مظلوم پارٹی” کی داغ بیل ڈالی جس کا بنیادی مقصد سرکاری ٹیکسوں سے مری قبیلہ کو نجات دلانا تھا جو لوٹ کھسوٹ کا ذریعہ بنے تھے۔ پارٹی کا پہلا کنونشن کوہلو میں طلب کیا گیا تھا جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی تھی۔ شیرو کی مقبولیت کو دیکھ کر حکومت بھوکلا گئی اور انہیں گرفتار کیا گیا۔ شیرو مری جیل میں ہی تھے کہ انگریز حکومت ٹوٹ گئی اور بلوچستان کو ۱۱ اگست ۱۹۴۷ کو آزادی ملی تھی جسے آٹھ مہینے بعد پاکستانی ریاست نے فوج کشی کے ذریعے قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد شیرو مری آزادی ، امن اور سماجی انصاف کے حصول کی خاطر ظلم و بربریت کے خلاف آخری سانس تک کمربستہ لڑتے رہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے بیس سال جیل میں گزارے، بیس سال پہاڑوں پر گوریلا جنگ لڑتے رہے اور پانچ سال جلا وطنی کی زندگی گزاری مگر ان کو کبھی بھی پشیمانی نہیں رہی وہ اپنی زندگی کے آخری ایّام میں بھی لڑنے کو پر عزم تھے اور کہتے رہے کہ ” میرے نظریات ویسے کے ویسے ہیں اور ان میں کسی قسم کی بھی تبدیلی نہیں آئی ہے بلکہ زندگی کے تجربات سے میرے نظریات کو تقویت پہنچی ہے اور وہ زیادہ مضبوطی سے قائم ہیں”۔ میر شیر محمد مری ایک مارکسوادی رہبر تھے او ر ماؤسٹ رجحان کے زیادہ حامی تھے۔ بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت کے حوالے سے وہ مسلح جدوجہد کو ہی درست طریقہ کار سمجھتے تھے اور ساری زندگی گوریلا جنگ لڑتے رہے۔ ان کا ماننا تھا کہ پاکستانی حکمران اشرافیہ پرامن جمہوری آواز سے زیادہ بندوق کی آواز کو سنتی اور سمجھتی ہے لہٰذا ان کے نفسیات کے مطابق ہمیں اپنی جدوجہد کرنی چاہیئے اس لیئے وہ ایوب خان کی آمریت سے زولفقار بٹھو کی سولین ڈکٹیٹرشپ کے خلاف مسلسل مسلح جدوجہد کرتے رہے اور بلوچ قومی حقوق کا دفاع کیا۔شیرو مری مسلح جنگ کو مارکسی تعلیم کا تابع بنانے کی وکالت کرتا رہا اور ان کی قیادت میں جاری جدوجہد پرسوشلسٹ چھاپ واضح تھی۔ان کا کہنا تھا کہ ” کوئی بھی اسلحہ اگر مارکسی فکر کے تابع نہیں ہے تو پھر وہ ڈاکوؤں کے ہاتھ میں ہے۔ انقلابی جدوجہد کیلئے مارکسی نظریہ بنیادی اسلحہ ہے۔ ہماری تحریک میں شامل ہر نوجوان پر لازم ہے کہ وہ روزانہ ایک گھنٹہ مارکسی تعلیم حاصل کریں اور ہر کارکن کے سینے پر لینن کا بیج آویزاں ہونا لازمی ہے”۔ انہی مارکسی افکار کی بنیاد پر بابو شیرو مری کو حکمرانوں نے روسی چھاپ دیتے ہوئے جنرل شیروف کا نام دیا اور بلوچستان کی قومی آزادی کی تحریک کو روسی پروپیگنڈہ بنا کر پیش کرنے کی مکارانہ کوشش کی جبکہ حقیقت میں شیرو مری کی قیادت میں جاری تحریک کسی بھی ملک کی تابع قطعاٌنہیں تھی بلکہ یہ خالصتاٌ بلوچ قومی استحصال کے خلاف ایک بغاوت تھی۔ روسی اسٹالنسٹ افسر شاہی کے حوالے سے وہ قطعی مطمئن نہیں تھے انہوں نے سویت یونین کے انہدام پر ایک انٹریو میں کہا تھا کہ ” میں نے ماسکو کا کئی بار دورہ کیا ہے اور محسوس کیا ہے کہ وہاں سوشلزم اپنی اصلی بنیادوں پر موجود نہیں تھا ۔ روس میں جو ناکام ہوا وہ کسی صورت سوشلزم کی ناکامی نہیں تھی اور وہاں کارل مارکس ، اینگلز اور لینن کی تعلیمات پر عمل نہیں کیا جاتا تھا بلکہ خود ساختہ نظریات پیدا کیئے گئے تھے اس لیئے مارکسزم ابھی بھی زندہ ہے۔ یہ ایک نظریہ ہے جس میں تھیوری اور عمل دونوں کے تصورات پہلو بہ پہلو موجود ہیں۔ سوشلزم درحقیقت صرف روس کی ہی ملکیت نہ تھا بلکہ یہ پوری دنیا کے عوام کا نظریہ ہے”۔ بابو شیرو مری محض بلوچ قوم تک محدود جدوجہد کا حامی نہیں تھا بلکہ وہ ایسی قومی نفسیات “جو طبقاتی جدوجہد سے خالی ہو، کو فاشزم” کہتا تھا ۔ ان کا ماننا تھا کہ ہمیں اپنی جدوجہد کا نشانہ صرٖ ف پنجابی سرمایہ دار کو نہیں بنانا چاہیئے بلکہ ہمارا مقصد عوام کے تمام دشمنوں کا خاتمہ ہے خواہ وہ پنجابی ہو ، سندھی ہو، پٹھان ہو یا پھر بلوچ ہو۔ بلوچ قوم کا جنرل شیرو مری فقط ایک سرپرہ باغی نہیں تھا بلکہ وہ سائنسی سوشلزم کا حامی سیاسی مفکر اور ادیب تھا اور ظلم و جبر کی بتوں کو توڑنے والا ایک انقلابی کوہسار لیڈر تھا جنہوں نے اپنی زندگی ایک عظیم مشن کیلئے وقف کر دی تھی ان کے الفاظ میں ان کی زندگی کا ایک عظیم مقصد تھا، “میری زندگی کا مشن سماج کو بدلنا ہے، میں ایسا سماج چاہتا ہوں کہ جہاں انسان کے ہاتھوں انسان لوٹ کھسوٹ کا شکار نہ ہو، جہاں مظلوم اور کچلے ہوئے طبقات اور چھوٹے صوبوں کے باشندوں کا استحصال نہ ہو، جہاں دار اور نادار نہ ہوں۔ ایسا معاشرہ قائم کرنا چاہتا ہوں کہ جہاں محبت ہو، خوشحالی ہو، ہر ایک کو یکساں سیاسی ، معاشی، ثقافتی آزادیاں حاصل ہوں۔ جہاں سب کو مساوی حقوق ملتے ہوں ، یہ ہے میرا مشن اور مقصد۔ اس کے لئے میں تمام عمر جدوجہد کرتا رہا ہوں اور جب تک ایک سانس بھی باقی ہے جدوجہد کرتا رہوں گا۔ میری اس جدوجہد کو حکمران اور گماشتہ طبقات خواہ کوئی سا بھی نام دیں مجھے کسی بھی نام سے پکاریں، مجھے کوئی پرواہ نہیں، میں شرمسار یا شرمندہ نہیں”۔ یہ وہ عظیم مشن ہے جو آج کی نوجوان نسل کیلئے مشعل راہ ہے۔ بابو شیرو مری کے انقلابی آدرش بلوچ نوجوانوں کیلئے اپنی زندگیاں بامقصد بنانے کیلئے درست نمونہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آج کی نوجوان نسل وراثت میں ملے ان عظیم تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے اکیسویں صدی سے ہم آہنگ حالات و تناظر کے مطابق درست حکمت عملی کا انتخاب کریں تاکہ جنرل شیرو مری کا چھوڑا ہوا سفر منزل مقصود تک پہنچایا جائے۔ شیرو مری نے مسلح جہد پر اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ “مسلح جدوجہد با اثر ضرور ہے، مگر فیصلہ کن نہیں ہے” تو اس لئے آج کی نسل کو صدیوں کی اس کرب سے نجات کی خاطر اور دنیا کو امن و آشتی کا گہوارا بنانے کیلئے اب فیصلہ کن جدوجہد کی طرف بڑھنا پڑیگا تاکہ اپنے پرکھوں کے چھوڑے ہوئے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔فیصلہ کن جدوجہد کبھی تنہائی میں یا صرف قومی بنیادوں پر نہ تو لڑی جا سکتی ہے اور نا جیتی جا سکتی ہے اس لئے جدوجہد کو طبقاتی بنیادوں پر منظم کرناناگزیرضرورت بن چکا ہے جس کے ذریعے دنیا بھر سے استحصالی نظام کا خاتمہ کرتے ہوئے سماجی انصاف اور برابری کی بنا پر مبنی سماج کی تعمیرکی جائے۔ حق اور انصاف کیلئے لڑنے والا یہ انقلابی باغی ۱۱ مئی ۱۹۹۳ کو اس جہان سے تو کوچ کر گیا مگر ان کا عظیم مشن آج بھی شرمندہ تعبیر ہونے کا متقاضی ہے۔ بی ایس او ، بلوچ قوم کے عظیم انقلابی لیڈربابو شیرو مری کو ان کے چوبیسویں برسی کے موقع پر سُرخ سلام پیش کرتی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *